آسٹریلیا کے کسی چڑیا گھر میں ایک کینگرو

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آسٹریلیا کے کسی چڑیا گھر میں ایک کینگرو بند تھا‘ یہ کینگرو روز پنجرے کی دیوار پھلانگ کر باہر آ جاتا تھا‘ انتظامیہ نے اسے محصور رکھنے کےلئے پنجرے کی دیواریں اونچی کرنا شروع کر دیں‘ پہلے دن دیوار پانچ فٹ اونچی کی گئی لیکن کینگرو پنجرے سے باہر آگیا‘ اگلے دن دیوار مزید پانچ فٹ اونچی کر دی گئی۔کینگرو پھر باہر آ گیا‘ ۔۔اس کے بعد انتظامیہ روز دیوار اونچی کرتی ۔۔لیکن کینگرو ۔۔اس کے باوجود باہر ہوتا‘ یہ سلسلہ (اس وقت) تک چلتا رہا جب تک دیوار کو مزید اونچا کرنا (ممکن) نہ رہا‘ انتظامیہ تنگ آ کرکینگرو کے پاس چلی گئی اور (اس) سے پوچھا‘ کینگرو میاں آپ ہمیں ایک بار ہی بتا دیں آپ کتنی (بلند) چھلانگ لگا سکتے ہیں‘ہم پنجرہ (اتنا) اونچا کر لیتے ہیں‘ کینگرو نے قہقہہ لگاکر جواب دیا‘جناب آپ کو کس بے وقوف نے بتایا میں دیوار پھلانگ کر باہر آتا ہوں‘ انتظامیہ نے پوچھا پھر آپ کیسے باہر آتے ہیں‘ کینگرو نے جواب دیا‘ آپ بڑے سادہ ہیں‘ آپ روز دیوار (بلند) کر جاتے ہیں ۔۔لیکن پنجرے کا دروازہ (کھلا) چھوڑ جاتے ہیں‘میں دروازے سے باہر آتا ہوں۔خواتین وحضرات آپ کو یاد ہو گا عمران خان نے اپنی تحریک کا آغاز الیکشن میں دھاندلی سے کیا تھا‘ انہوں نے چار حلقوں کی بات کی اور یہ بات بگڑتے بگڑتے دو نومبر کے دھرنے تک پہنچ گئی‘چنانچہ پھر ہم نے کیا کمایا‘ کیا کھایا‘ جو کام کرنے والا تھا وہ تو ہم نے کیا نہیں اور جس کام کا کوئی فائدہ نہیں وہ کام ہم مسلسل کر رہے ہیں‘ کیوں؟ اس نالائقی اور (سستی) کا جواب کون دے گا‘ہمارے لیڈروں کا ایشو ناظرین بہت دلچسپ ہے‘ عمران خان ہمیشہ جلدی کر جاتے ہیں‘میاں نواز شریف دیر کر جاتے ہیں اور آصف علی زرداری کچھ کرتے ہی نہیں ہیں‘ ۔۔ان تینوں کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے‘ میاں نواز شریف سنتے نہیں ہیں‘ عمران خان مانتے نہیں ہیں اور آصف علی زرداری ۔۔ہلتے نہیں ہیں چنانچہ پھر ملک کیسے چلے گا‘ریفارمز کیسے ہوں گی‘ میرا خیال ہے یہ۔۔ ملک ایسے ہی چلے گا‘ پنجرے بلند‘ دروازے (کھلے) اور کینگرو باہر اور اللہ ہی اللہ۔

 

آپ سکون کیسے حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔۔

میں نے اپنے بابا جی کو بہت ہی فخرسے بتایا کہ میرے پاس دو گاڑیاں ہیں اور بہت اچھا بینک بیلنس ہے، اس کے میرے بچے اچھے انگریزی سکول میں پڑھ رہے ہیں، عزت شہرت سب کچھ ہے، دنیا کی ہر آسائش ہمیں میسر ہے اس کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی ہے، میری یہ بات سننی تھی کہ انہوں نے جواب میں مجھے کہا کہ یہ کرم اس لیے ہوا کے تو نے اللہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑ دیں، میں نے جب اس بات کی وضاحت چاہی، بابا نے کہا، اشفاق احمد کہتے ہیں میری اماں نے ایک اصیل ککڑ پال رکھا تھا۔ اماں کو اس مرغے سے خصوصی محبت تھی۔اماں اپنی بک (مٹھی) بھر کے مرغے کی چونچ کے عین نیچے رکھ دیا کرتی تھیں اور ککڑ چونچ جھکاتا اور جھٹ پٹ دو منٹ میں پیٹ بھر کے مستیوں میں لگ جاتا۔ میں روز یہ ماجرا دیکھا کرتا اور سوچتا کہ یہ ککڑ کتنا خوش نصیب ہے۔ کتنے آرام سے بنا محنت کیے اس کو اماں دانے ڈال دیتی ہیں۔ ایک روز میں صحن میں بیٹھا پڑھ رہا تھا، حسب معمول اماں آئی اور دانوں کی بک بھری کہ مرغے کو رزق دے اماں نے جیسے ہی مٹھی آگے کی مرغے نے اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ (چونچ) مار دی اماں نے تکلیف سے ہاتھ کو جھٹکا تو دانے پورے صحن میں بکھر گئے۔ اماں ہاتھ سہلاتی اندر چلی گئی اور ککڑ (مرغا) جو ایک جگہ کھڑا ہو کر آرام سے پیٹ بھرا کرتا تھا اب وہ پورے صحن میں بھاگتا پھر رہا تھا۔ کبھی دائیں جاتا کبھی بائیں کبھی شمال کبھی جنوب۔ سارا دن مرغا بھاگ بھاگ کے دانے چگتا رہا۔ تھک بھی گیا اور اس کا پیٹ بھی نہیں بھرا۔ بابا دین مُحمد نے کچھ توقف کے بعد پوچھا بتاؤ مرغے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ میں نے فٹ سے جواب دیا نہ مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا نہ ذلیل ہوتا، بابا بولا بالکل ٹھیک، افتخار افی یاد رکھنا اگر اللہ کے بندوں کو حسد، گمان، تکبر، تجسس، غیبت اور احساس برتری کی ٹھونگیں مارو گے تو اللہ تمھارا رزق مشکل کر دے گا اور اس اصیل ککڑ کی طرح مارے مارے پھرو گے۔تو نے اللہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑیں رب نے تیرا رزق آسان کر دیا۔ بابا عجیب سی ترنگ میں بولا پیسہ، عزت، شہرت، آسودگی حاصل کرنے اور دکھوں سے نجات کا آسان راستہ سن لے۔ اللہ کے بندوں سے محبت کرنے والا ان کی تعریف کرنے والا ان سے مسکرا کے بات کرنے والا اور دوسروں کو معاف کرنے والا کبھی مفلس نہیں رہتا۔ آزما کر دیکھ لو، اب بندوں کی محبت کے ساتھ ساتھ شکر کے آنسو بھی اپنی منزل میں شامل کر لو امر ہو جاؤ گے۔ یہ کہہ کر بابا دین مُحمد تیزی سے مین گیٹ سے باہر نکل گیا اور میں سر جھکائے زار و قطار رو رہا تھا اور دل ہی دل میں رب العزت کا شکر ادا کر رہا تھا کہ بابا دین محمد نے مجھے کامیابی کا راز بتا دیا تھا، اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے۔۔ آمین آپ نے بھی سنا ھو گا کی اچھی بات دوسروں تک پہنچانا ایک صدقہ جاریا ہے ۔۔۔ اگر آپ کو یہ پوسٹ اچھی لگی ھے تو ھم آپ سے گزارش کرتے ھیں کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں

ایک شخص در خت کے نیچے سو رہا تھا۔اچانک ایک بچھو۔۔۔

ایک شخص درخت کے نیچے سویا ہوا تھا۔اچانک اس نے دیکھا کے بچھو اس کی طرف آ رہا ہے۔ وہ تھوڑا پیچھے ہٹ گیا، لیکن بچھواسکےپاس سے ایسےگزرا جیسے وہ کوئی کام جارہاہواس نے سوچا،عجیب بات ہےکہ مجھےکچھ کہے بغیر یہ آگے چلا گیا۔اس نےبچھو کا پیچھا کرنا شروع کر دیا چلتے چلتے آگے دریا آ گیا بچھو کنارے کے آگے اسے کھڑا ہو گیا جیسے کسی کشتی کا انتظار کر رہاہو۔تھوڑی دیر بعد ایک پتا پانی میں تیرتا ہوا آیا اور اس کے پاس آ کر رک گیابچھو اس پر سوار ہوا اور پتا آگے چل پڑا۔اس شخص نے چھلانگ لگائی اور اس بچھو کے پیچھے پیچھےتیرنے لگا بچھو دریا کے دوسرے کنارے چلا گیاجب بچھو دریا کے دوسرے پار پوہنچا۔ تو پتا پھر رکا،بچھو اتر گیاوہ شخص بھی کنارے پر آ گیا بچھو چلتا چلتا دور ایک ٹیلے کے پاس ایک آدمی کے پاس پوہنچا جو سویا ہوا تھا۔ اس کے قریب جا کر رک گیادوسری طرف سانپ آ رہا تھا جیسے ہی سانپ اس سوۓ ہوئے شخص کو ڈسنے لگا تو بچھو نے سانپ کو ڈس لیا یوں سانپ مر گیا۔ بچھو آگے چلا گیا وہ شخص جو بچھو کے پیچھے پیچھے یہاں تک پوہنچا تھا،اس سوۓ ہوئے کے پاؤں پڑگیا_ وہ جاگ گیا تو اسے کہنے لگا کہ آپ تو بڑے بزرگ ہیں۔ اس نے پوچھا کیوں کیا ہوا؟پھر اس نے اسے سارا واقعہ سنایا واقعہ سننے کے بعد اس نے کہا،میں تو یہودی ہوں۔ اس شخص نے یہودی کو چھوڑا اور سر سجدے میں رکھ دیا اے میرے مالک تو ایک بندے کو بچانے کے لئے اتنا برا کارخانہ چلاتا ہے تو میرے بارے میں اس سے بھی بہتر کر رہا ہوگا۔ اگر ہماری آنکھ کھل جاۓ کے اللّه تعالٰی ہمارے ساتھ کیا معاملات کر رہا ہے، وہ کہاں کہاں سے ہماری مدد کر رہا ہے تو ہم کبھی سر سجدے سے بھی نا اٹھائیں۔ ہم کسی وجہ سے رو رہے ہوتے ہیں اور اچانک ایک اللّه کا بندہ آتا ہے ہم جس وجہ سے رو رہے ہوتے ہیں،وہ اسی کے متعلق باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ہم حیران ہوتے ہیں کے یہ میرے ساتھ میری باتیں کیوں کر رہا ہے اصل میں اللّه ہماری مدد کر رہا ہوتا ہے۔

ایسی حصوصیات کہ جن پر آپ

ایسی حصوصیات کہ جن پر آپ عمل کریں گے تو آپ اپنے اندر کے انسان کو سنوار لیں گے ۔انشاء اللہ تعالیٰ آپ بہترین انسان بن جائیں گے ۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ جب خدا کسی اور بندے کو نیک بنانا چاہتا ہے تو اسے کم بولنے کم کھانے اور کم سونے کا الہام کر دیتا ہے اس کی زندگی کو اس طریقے سے بنا دیتا ہے ۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا حسد بیماریوں میں سب سے بدترین بیماری ہے حسد نیکیوں کو اسی طرح تباہ کر دیتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے ۔اگر توکل سیکھنا ہے تو پرندوں سے سیکھو کہ جب وہ شام کو واپس گھر جاتے ہیں تو ان کی چونچ میں کل کے لیے کوئی دانا نہیں ہوتا ۔تمہارا ایک رب ہے پھر بھی تم اسے یاد نہیں کرتے لیکن اسکے کتنے بندے ہیں اور وہ پھر بھی تمہیں نہیں بھولتا ۔جو شخص موت کا منتظر ہے وہ تیزی کے ساتھ نیكیوں کی طرف دوڑتا ہے ۔کسی انسان کو دکھ دینا اتنا آسان ہے جتنا سمندر میں پتھر پھینکنا مگر یہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ پتھر کتنی گہرائی میں گیا ہے ۔دکھ میں کبھی بھی پچھتاوے کے آنسو نہ بہاؤ کیوں کے تم وہ خوش نصیب ہو جس کو اللہ نے آزمائش کے قابل سمجھا ہے ۔

رات ایک بجے ایک تسبیح کریں اور۔۔۔

آج آپکو ایسی تسبیح کے بارے میں بتائیں گے جو رات بارہ بجے یا ایک بجے اس تسبیح کوکریں گے تو آپ کو اتنا پیسہ ملے گا کہ آپکی نسلیں بھی اس کو ختم نہیں کرسکیں گے ۔ یہ وہ مبارک وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کثرت سے دعاؤں کو قبول فرماتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا جب رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پہلے آسمان پر اترتا اور پھر فرماتا ہے ہے کوئی میرے حضور دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ میں اس کو بخش سکوں۔ رات کی آخری گ

ھڑیوں میں جب بندہ نیند سے بیدار ہوکر اللہ تعالیٰ کو یا د کرتا ہے اس کا ذکر وعبادت کرتا ہے ۔دعا کے دوران ماضی کی کوتاہیوں کو رات کی خاموشی میں باآسانی یاد کرسکتا ہے ۔ ان پر ندامت کے آنسو بہا کر معافی مانگ سکتا ہے ۔ آئندہ کیلئے گناہوں سے صدق دل سے توبہ کرسکتا ہے ۔ اپنے دل کے دکھڑے اللہ تعالیٰ کو سنا سکتا ہے ۔ رات کی تنہائی میں جب وہ رب سے باتیں کرتا ہے اس کے اور رب کے درمیان اور کوئی حائل نہیں ہوتا رات 1بجے وہ وقت ہوتا ہے جب سب سورہے ہوتے ہیں تب یہ تسبیح کرلیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے ۔ اس وقت 100بار سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کواس طرح پڑھیں ک

ہ آپ کی جوبھی حاجت ہے اس کو اپنے ذہن میں رکھیں ۔ اس کے بعد تین بار درود شریف پڑھ لیں جوبھی حاجت ہو اللہ تعالیٰ کے سامنے بیان کریں ۔آپ کے رشتے کا مسئلہ ہے میاں بیوی کی ناچاکی کا مسئلہ ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کو پکاریں اسی وقت آپکا مسئلہ فوری طور پر حل ہوجائیگا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ پسندیدہ ذکر دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت پی

دا کردیتا ہے انسان اللہ تعالیٰ سے جتنی محبت کرتا ہے اتنی ہی محبت اور مٹھاس پا لیتا ہے ۔ جس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے بھر جائے اللہ تعالیٰ اسے دوسروں کی محبت ڈر اور توکل سے بے نیاز کردیتا ہے ۔صرف اللہ تعالیٰ ہی کی محبت دل کو بے نیاز کردیتی ہے اور حاجتوں کو پورا کردیتی ہے فکر سے نکالتی ہے اللہ تعالیٰ کی محبت کے بغیر اس دنیا کی ہر نعمت بھی آجائے تو اس کا دل سکون واطمینان کی نعمت سے خالی ہوگا۔کسی نع

مت سے محرومی کی تکلیف اتنی شدید نہیں جتنی اللہ تعالیٰ کی محبت سے محرومی کی ہے ۔ یہ محرومی اس کی روح کو مردہ کردیتی ہے اور روح کی موت کسی بھی جسمانی تکلیف سے بڑی محرومی اورتکلیف ہے

رات 1بجے یہ ایک تسبیح ضرور پڑھ لیں صبح اُٹھتے ہی آپکا گھر رزق اور پیسہ سے بھرا ہوگا

وقت اور دولت

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:۔” تمھاری عمر کتنی ہے؟”۔تاجر نے کہا “20 سال۔ “۔” تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ “تا جرنے کہا۔۔۔“70 ہزار دینار”۔بادشاہ نے پوچھا: “تمھارے بچے کتنے

ہیں؟ “۔تاجر نے جواب دیا: “ایک”۔ واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا:۔“اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس کے پانچ لڑکے ہیں۔”تاجر نے کہا: زندگی کے 20 سال ہی نیکی اور ایمان داری سے گزرے ہیں، اسی کو میں اپنی عمر سمجھتا ہوں اور زندگی میں 70 ہزار دینار میں نے ایک مسجد کی تعمیر میں خرچ کیے ہیں، اس کو اپنی دولت سمجھتا ہوں اور چار بچے نالائق اور بد اخلاق ہیں، ایک بچہ اچھا ہے، اسی کو میں اپنا بچہ سمجھتا ہوں۔ “۔یہ سُن کر بادشاہ نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا اور تاجر سے کہا:۔ “ہم تمھارے جواب سے خوش ہوئے ہیں، وقت وہی شمار کرنے کے لائق ہے، جو نیک کاموں میں گزر جائے، دولت وہی قابلِ اعتبار ہے جو راہِ خدا میں خرچ ہو اور اولاد وہی ہے جس کی عادتیں نیک ہوں

مچھلی اور مرغی کا گوشت ایک ساتھ کھانے والے ایک بار یہ رپورٹ ضرور پڑھ لیں

گوشت ہماری غذاؤں کا ایک عام حصہ ہے اور ایک کثیر تعداد جن میں 59 فیصد سے زائد نوجوان نسل گوشت کو روزمرہ کھانا پسند کرتی ہے۔ مگر کونسا گوشت ہمارے لئے فائدہ مند ہے اور کس گوشت کو کھانے سے آپ کو نقصان ہوسکتا ہے اسی حوالے سے امریکی تحقیقی انٹرنل میڈیسن ماہرین کی بتاتے ہیں کہ: ” مرغی اور مچھلی کھانے سے دل اور فالج کے خطرات 30 فیصد کم ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے گوشت میں ایسے انزائمز پائے جاتے ہیں جو خون میں کولیسٹرول کو بڑھنے نہیں دیتے، پروٹین کی متوازن مقدار جسم میں داخل ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ تمام مہلک بیماریوں کے خدشات کم ہو جاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیر ولینا کے ڈائریکٹر بیری ہاپکنز کا کہنا ہے کہ: گوشت کھانے میں کمی کرنا ضروری ہے لیکن اگر مچھلی اور مرغی کا استعمال غذا میں رکھا جائے تو یہ جسم کو  متحرک رکھنے اور دماغی طاقت کوبھی بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔

سب سے مختصر حکومت

سب سے مختصر حکومت کرنے والا پرتگال کا شہزادہ فلپ تھا جو کہ یکم فروری  1908میں تخت نشین ہوا اور اس کے صرف بیس منٹ بعد ہی اسے گولی مار دی گئی اور یوں شہزادہ فلپ کی حکمرانی صرف بیس منٹ کی تھی ۔

روزانہ ایک سیب کھانے کے فوائد جان کر آپ فوراً اسے معمول بنا لیں گے

سیب بے شمار طبی فوائد کا حامل پھل ہے جس کے متعلق عام مقولہ بھی ہے کہ روزانہ ایک سیب کھانے سے آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس پھل کا ایک اور ایسا فائدہ بتا دیا ہے کہ سن کر آپ اسے اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنا لیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ سیب پٹھوں کی اکڑن اور اینٹھن کی بیماری سکلیروسس (Sclerosis)بیماری سے نجات کے لیے بہترین چیز ہے۔ اس کی جلد میں ایک کمپاﺅنڈ پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے سیب کی رنگت میں چمک آتی ہے۔یہ کمپاﺅنڈ انسانوں میں پٹھوں کی اکڑن اور سختی کو کم کرتا ہے۔ فلاڈلفیا کی تھامس جیفرسن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں سکلیروسس کی وجہ سے مفلوج ہو چکے چوہوں کو اس کمپاﺅنڈ سے بننے والی دوا دی جس سے وہ دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔ اس کے علاوہ سائنسدانوں نے چوہوں کو ناشپاتی کی جلد میں پایا جانے والا ارسالک ایسڈ بھی دیا اور اس کے بھی سیب کی جلد میں پائے جانے والے کمپاﺅنڈ جیسے ہی نتائج سامنے آئے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر گوانگ ژیانگ ژینگ کا کہنا تھا کہ ” اس کمپاﺅنڈ سے دنیا کی پہلی ایسی دوا بنائی جا سکتی ہے جو سکلیروسس سے جسم کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کر سکتی ہے۔ فی الوقت کوئی ایسی دوا نہیں ہے جو اس بیماری سے پہنچنے والے نقصان کو ختم کرکے پٹھوں کو ازسرنو ٹھیک کر سکے۔“

بھیگے ہوئے بادام کھانے کے فوائد

بادام کے گرد پیلی جھلی کی وجہ سے tanninہوتا ہے جس کی وجہ سے بادام کی غذائیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا لیکن اگر اس چھلکے کو بھگو کر اتار لیا جائے تو بادام میں غذائیت زیادہ آجاتی ہے اور ساتھ ہی یہ ہاضمے کے بہتر بنا تا ہے۔چھیلے ہوئے بادام میں lipaseنامی انزائم ہوتا ہے جس کی وجہ سے چکنائی کو ہضم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

بھگوئے ہوئے بادام، انسان کے وزن کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس میں موجود غذائیت کی وجہ سے ہماری بھوک کم ہوتی ہے اور نتیجہ کے طور پر ہم کم کھانا کھاتے ہیں۔بھگوئے ہوئے بادام میں انٹی آکسیڈنٹ کی بھاری مقدار موجود ہوتی ہے جبکہ اس کے استعمال سے جلد تروتازہ رہتی ہے۔بھگوئے ہوئے بادام میں وٹامن بی 17اور فولک ایسڈ ہوتا ہے جو کینسر سے لڑنے میں مددگار ہوتا ہے۔بھگوئے ہوئے بادام حاملہ خواتین کے لئے بھی بہت مفید ہوتا ہے