ٹماٹر کے استعمال سے جان لیوا بیماری سے بچاؤ؟؟؟

ماہرین نے ریسرچ سے ثابت کیا ہے کہ ایک عام سی سبزی جسے ٹماٹر کہا جاتا ہے lycopeneموجود کیمیکل

.سٹروک کے خطرات میں کمی کا باعث بنتا ہے

ماہرین نے قریب ایک ہزار افراد پر ریسرچ کی ہے اور مختلف گروپس تشکیل دے کر حتمی اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ٹماٹرسے تیار کردہ خوراک استعمال کرنے والوں میں برین سٹروک اور دیگر ہر قسم کے سٹروک کا خطرہ بہت کم ہے ٹماٹر نہ استعمال کرنے والوں میں سے۔

…….اگر یہ پھلوں سبزیوں میں کیڑے نہ پڑیں

اگر یہ پھلوں سبزیوں میں کیڑے نہ پڑیں تو کیا ہو گا؟؟؟
محترم احباب پھلوں اور سبزیوں وغیرہ میں کیڑے پڑنا ایک بہت بڑی نعمت ہے آپ سوچ رہے ہونگے کہ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ اگر یہ سبزیوں۔پھلوں اناج وغیرہ میں کیڑے نہ پڑیں تو ایسا نہیں ہو گا کہ لوگ اسے زخیرہ کرنا شروع کر دیں کہ کسی غریب کو یہ چیزیں دیکھنے کو نہ ملیں جیسے سونا چاندی تجوریوں میں بھر لئے جاتے ہیں۔قدرت اسی لئے ایسی اشیاء خوردونوش میں کیڑے پیدا کر دیتی ہے تاکہ کوئی بھی اسے ذخیرہ نہ کر سکے۔

طب نبوی سے ثابت ہے کہ انگور کا سرکہ بہت سی بیماریوں کے لئے مفید۔۔

زمانہ قدیم سے بے پناہ فوائد کے باعث سرکہ کاگھریلو استعمال کیا جارہا ہے لیکن دورِ جدید میں بیشترلوگ زبردست طبی فوائد کی حامل اس شے سے بے خبر ہوتے جارہے ہیں۔ اب سرکہ کا استعمال محض کھانوں کو لذیذ بنانے کی حد تک رہ گیا ہے۔

ہرچندکہ موجودہ دور میں خالص سرکہ ملنا مشکل نہیں لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ بازاری کھانوں میں استعمال ہونے و الا سفید سرکہ کیمیاوی مرکبات سے تیار کیا جاتاہے۔ اصل سرکہ وہ ہوتا ہے جو سبزیوں اور پھلوں سے بنایا جائے اور صحت کے فوائد بھی اصل سرکہ سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔

طب اسلامی میں بھی سرکہ کا استعمال ثابت شدہ ہے۔ تاہم سیب اور انگور کا سرکہ افضل شمار کئے جاتے ہیں۔سیب یا انگور کے سرکہ میں گندم یا جو کی روٹی بھگو کر کھانے سے غیر معمولی راحت اور توانائی ملتی ہے۔آج ہم آپ کو سیب کے سرکہ کے کچھ فوائد بتارہے ہیں، جنھیں پڑھ کر آپ یقیناً سیب کے سرکہ کو اپنی روزمرہ غذا کا حصہ بنانےپر غور کریں گے۔اگر گلے میں تکلیف ہورہی۔

ہو تو سیب کے سرکے سے اس انفیکشن کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔ سرکہ میں موجود تیزابی خصوصیات کے سامنے بیشتر جراثیم ٹک نہیں پاتے۔ چوتھائی کپ سیب کے سرکہ میں چوتھائی کپ گرم پانی ملائیں اور ہر گھنٹے بعد غرارے کریں۔خارش کی شکار جِلد کے لیے بھی سیب کا سرکہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ سرکے کے چند قطرے روئی پر ٹپکائیں اور اسے متاثرہ حصے پر رکھ دیں۔ اس میں موجود اجزاخارش زدہ جِلد کو سکون پہنچانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔۔

چوہوں پر کی گئی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سرکہ میں پائے جانے والے ایسیٹک ایسڈ کی بدولت ان کے خراب کولیسٹرول کی سطح میں کمی آئی۔ اسی طرح ایک جاپانی تحقیق کے مطابق روزانہ کچھ مقدار میں سیب کا سرکہ استعمال کرنے سے لوگوں میں کولیسٹرول کی سطح معمول پر رہتی ہے۔سیب کا سرکہ پیروں کے ناخنوں کو فنگس سے نجات کے لیے ایک مقبول ٹوٹکے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یکساں مقدار میں سیب کے سرکے کو پانی میں ملائیں اور اس سے پیر کو دھوئیں۔ اس میں موجود تیزابیت متاثرہ جِلد یا ناخن پر اثرانداز تو نہیں ہوتی مگر فنگس کے خاتمے میں ضرور مفید ثابت ہوتی ہے۔۔

اگر آپ کو سینے میں جلن یا معدے میں تیزابیت کی شکایت ہے تو 2چائے کے چمچ سیب کے سرکے کو ایک گلاس پانی میں ملائیں اور کھانے کے دوران پی لیں۔ سیب کا سرکہ معدے کی تیزابیت کو کم کرتا ہے جبکہ غذائی نالی کو معدے میں تیزابیت بڑھنے کے اثر سے بچاتا ہے۔سیب کا سرکہ نظام ہضم کیلئے بھی فائدہ مند ہے۔ سیب کے سرکے کو پانی میں ملا کر استعمال کرنا بدہضمی، قبض یا ہیضے وغیرہ سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

سیب کا سرکہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں موجود ایسیٹک ایسڈ خوراک کی خواہش کم کرکے میٹابولزم کو تیز کرتا ہے۔ طبی ماہرین کے خیال میں سرکہ جسم کے نظام ہضم کو بھی تیز کرتا ہے، جس کےنتیجے میں دوران خون میں بہت کم کیلوریز باقی رہتی ہیں۔

سرکے کی تیزابیت سر کی سطح میں تبدیلیاں لاکر خشکی کو دور کرتی ہے۔ چوتھائی کپ سیب کے سرکے کو چوتھائی کپ پانی میں ملا کر کسی اسپرے بوتل میں ڈال لیں اور پھر اپنے سر پر اس کا چھڑکاؤ کریں۔ اس کے بعد اپنے سر پر تولیہ لپیٹیں اور پندرہ منٹ سے ایک گھنٹے تک کے لیے بیٹھ جائیں، اس کے بعد بالوں کو دھولیں۔ بہترین نتائج کے لیے ہفتے میں دو بار اس عمل کو دہرائیں۔سیب کا سرکہ ایک قدرتی ٹانک ہے، جو جِلد کو صحت مند بناتا ہے۔

اس کی جراثیم کش خوبیاں کیل مہاسوں کو کنٹرول میں رکھتی ہیں جبکہ جِلد کو نرم اور لچکدار بنانے کا بھی کام کرتی ہیں۔اگر برش کرنے اور ماؤتھ واش کرنے کے بعد بھی سانس کی بو ختم نہیں ہورہی تو اس گھریلو نسخے کو استعمال کرکے دیکھیں۔ سیب کے سرکے سے غرارے کریں یا ایک چائے کا چمچ پانی میں ملا کر اسے پی لیں تاکہ بو پیدا کرنے والے بیکٹریاز کا خاتمہ ہوسکے۔سیب کے سرکے کی کچھ مقدار پینا بلڈ شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ذیابطیس ٹائپ ٹو کے مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق سونے سے قبل دو چائے کے چمچ سیب کا سرکہ پینے سے صبح گلوکوز کی سطح میں کمی ریکارڈ کی گئی۔اگر نزلہ زکام کا شکار ہوجائیں تو سیب کا سرکہ استعمال کرکے دیکھیں۔ اس کے اندر پوٹاشیم موجود ہوتا ہے، جو ناک کو کھولتا ہے جبکہ ایسیٹک ایسڈ جراثیموں کی تعداد کو کم کرتا ہے اور ناک کھولنے کا کام کرتا ہے۔ بس ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ ایک گلاس پانی میں ملائیں اور پی لیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

دھی کے ساتھ کیلا کا استعمال انتہائی مفید۔۔۔۔؟؟؟

اگر کیلے کو دہی کے ساتھ ملا کر کھایا جائے تو یہ دونوں مل کر ہمارے جسم کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں اس کے علاوہ دہی اور کیلے کا روزانہ استعمال کرنے سے ہم اور بھی کئی طرح کی بیماریوں سے بھی بچے رہتے ہیں کیلے میں بھر پور مقدار میں فائبر کیلشیم میگنیشیم پوٹاشیم وٹامن سی اور بی 6 ہوتا ہے جو ہماری صحت کے لئے بہت ہی زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں دہی میں کیلشیم وٹامن بی جیسے کئی ضروری اجزاء پائے جاتے ہیں کیلشیم پروٹین اور پروبائیوٹک اجزاء سے بھر پور دہی دودھ سےبننے والی ایک بہترین غذا ہے

اس میں کیلشیم پروٹین اور پروبائیوٹک بھر پور مقدار میں پائے جاتے ہیں اس میں پروبائیوٹک اور کیلشیم دودھ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتا ہے جو جسم کو کئی طرح سے فائدہ دیتے ہیں ۔سب سے پہلے ایک کٹوری میں ڈیڑھ سو گرام دہی لے لیں پھر دو کیلوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر اچھی طرح مکس کر لیں اگر آپ چاہی تو اس میں دو چمچ شہد بھی ملا سکتے ہیں اور پانچ منٹ تک کھلا چھوڑ دیں اور پھر کھا لیجئے اس کا استعمال صبح خالی پیٹ کرنا ہے اسے کھانے کے بعد ایک گھنٹہ تک کچھ بھی نہیں کھانا ہے اور ایک گھنٹے کے بعد ناشتہ کرنا ہے۔دہی اور کیلا ایک ساتھ کھانے سے ہمارے جسم کو کون کون سے فوائد ملتے ہیں ۔اگر آپ روزانہ دہی اور کیلے کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے آپ کی مردانہ طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اس کے استعمال سے منی کا پتلا پن ختم ہوجاتا ہے اور منی گاڑھی ہوجاتی ہے اور ٹائمنگ میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو لوگ اپنی بیوی کو خوش نہیں کر پاتے ان لوگوں کو تو دہی اور کیلے کا استعمال ضرور کرنا چاہئے ۔

مردانہ کمزور ی چاہے جتنی بھی پرانی ہو جڑ سے ختم ہوجائے گی جسمانی کمزوری چاہے کیسی بھی ہو وہ بھی دور ہوجائے گی دہی اور کیلے کے صرف چند دن استعمال سے ہی آپ اپنے اندر بے پناہ طاقت محسوس کریں گے لیکن اس کا استعمال آپ کو لگاتار کرنا ہو گا اگر آپ اس میں دو چمچ شہد بھی ملا دو گے تو یہ اور بھی طاقتور بن جائے گا جو لوگ پیشاب کے قطروں کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں ایسے لوگوں کو دہی میں کیلا ملاکر ضرور کھانا چاہئے کیلے کو دہی میں ملا کر کھانے سے نظام ہاضمہ مضبوط ہوتا ہے اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی بیماری آپ کو چھو نہیں پائے گی اور آپ ہمیشہ صحت مند رہو گے اگر آپدہی میں کیلا ملا کر کھاتے ہیں تو اس سے اضافی چربی پگھل جاتی ہے اور اگر آپ موٹاپے سے پریشان ہیں تو آپ اس کا استعمال کریں پوٹاشیم ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔اگر کسی کو بھی ہائی بلڈ پریشر کی بیماری ہو تو انہیں دہی اور کیلے کا ضرور استعمال کرنا چاہئے اگر آپ دہی میں کیلا ملا کر صبح خالی پیٹ کھاتے ہیں تو آپ کو کسی بھی وجہ سے رات کو نیند نہ آنے کی پرابلم سے بھی چھٹکارا مل جائے گا اور آپ کو اتنی پرسکون اور گہری نیند آیا کرے گی کہ صبح ہی آنکھ کھلے گی اس کے علاوہ کیلے میں پایا جانے والا پیسٹن قبض کو دور کرتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

تین لوگوں کو کبھی راز دار مت بنانا (حضرت علیؓ)

حضرت علی ؓ نے فرمایا:عقلمند اپنے آپ کو پست کر کے بلندی حاصل کرتا ہے ،اور نادان اپنے آپ کو بڑھا کر ذلت اُٹھاتا ہے۔حضرت علی ؓ نے فرمایا اپنے راز اپنے تک رکھو،اور خاص طور پر تین لوگوں کو اپناراز کبھی مت بتانا؟عورت کو کبھی اپنا راز مت بتانا!کیونکہ عورت کے دل اور زبان کے بیچ فاصلہ بہت کم رہتا ہے،اس لئے وہ راز کو محفوظ رکھنا چاہے بھی تو نہیں رکھ پاتی۔ بے وقوف دوست کو اپنا کوئی بھی راز کبھی مت بتانا!کیونکہ وہ تمہارے راز کی حفاظت نہیں کرسکتا ،اور کبھی بھی کہیں بھی بول دے گا۔ کسی بھی جھوٹے انسان کو جو ہمیشہ جھوٹ کا سہارالیتا ہو،ایسے شخص کو کبھی اپنا کوئی راز نہ بتانا کیونکہ وہ کہیں بھی بیٹھے گا تو دوسروں کے ساتھ ساتھ تمہاری بھی غیبت کرے گا،جو تمہارے لئے رسوائی کا سبب بنے گی۔

حضرت علی ؓ نے فرمایا اپنے راز کو اپنے تک ہی رکھو، کیونکہ جب تک تمہارا راز تمہارے پاس ہے وہ تمہارا غلام ہے ،اور جب تمہارا راز دوسروں تک پہنچتا ہے توتم اپنے راز کے غلام بن جاتے ہو۔نیت کتنی بھی اچھی ہو ،دنیا تم کو تمہارے دکھاوے سے ہی جانتی ہے اور دکھاوا کتنا بھی اچھا ہو اللہ تعالیٰ تم کو تمہاری نیت سے جانتا ہے۔جو تمہاری خاموشی سے تمہاری تکلیف کا اندازہ نہ کر سکے اس کے سامنے زبان سے اظہار کرنا صرف لفظوں کو ضائع کرنا بے۔جانور میں خواہش اور فرشتے میں عقل ہوتی ہےمگر انسان میں دونوں ہوتی ہیں اگر وہ عقل دبا لے تو جانور اور اگر خواہش کو دبا لے تو فرشتہ۔محبت سب سے کرو لیکن اس سے اور بھی زیادہ جس کے دل میں تمہارے لئے تم سے بھی زیادہ محبت ہے۔جناب علی کرم اللہ وجہہ اللہ کے آخری نبی ﷺ کے چچا کے بیٹے اور داماد ہیں، آپ کم عُمر لوگوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں اور ساری زندگی اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ گُزارنے والوں میں سے ہیں،

آپ مُسلمانوں کے چوتھے خلیفہ تھے جنہوں نے 656 سے 661 تک خلافت کی ذمہ داریاں نبھائیں، اللہ کے نبی ﷺ کا آپ کے متعلق ارشاد ہے جس کا مفہوم ہے کہ میں علم کا شہر ہُوں اور علی اُس کا دروازہ ہے۔حضرت علی علیہ السلام کے 10 اقوال جو سوچ اور زندگی کو بدل کر رکھ دیں گے۔جناب علی رضی اللہ نے فرمایا: عقل 2 طرح کی ہوتی ہے ایک عقل طبعی اور دوسری عقل سماعی، انسان عقل سماعی سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرپاتا اگر اُس کے پاس عقل طبعی نہ ہو، یہ بلکل ایسے ہے جیسے اگر آنکھ کی بینائی نہ ہو تو سُورج کی روشنی بیکار ہے۔جناب علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:جب تک کوئی بات تیرے مُنہ میں بند ہے تب تک تُم اُس کے مالک ہو اور جب تُم اُسے زبان سے ادا کرکے مُنہ سے نکال دیتے ہو تب وہ تمہاری مالک بن جاتی ہے۔حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: شریف کی پہچان یہ ہے کہ جب کوئی اس کیساتھ سختی کرتا ہے تو وہ سخت ہوجاتا ہے اور جب کوئی اس کے ساتھ نرمی سے بات کرے تو وہ نرمی سے جواب دیتا ہے، اور کمینے کی پہچان یہ ہے

کہ جب کوئی اُس کے ساتھ نرمی سے بات کرے تو اُس کا جواب سختی سے دیتا ہے اور سختی سے بات کرنے والے کے سامنے ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔مولا علی علیہ السلام نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کے عیب کی تلاش میں رہتا ہے تو ایک وقت آتا ہے کہ اُسے اُس کا کوئی نہ کوئی عیب مل ہی جاتا ہے۔شیر خُدا کا فرمان ہے: جو شخص جان بوجھ کر گمراہی کا راستہ اختیار کرے اُسے کوئی راہ راست پر نہیں لا سکتا۔حیدر کرار نے فرمایا:کبھی اچانک تمام کام درست ہو جاتے ہیں اور کبھی طلبگار ناکام رہتا ہے اور میں نے اللہ کو اپنے ارادوں میں ناکامی سے پہچانا۔خیبر شکن مولا علی کا فرمان ہے:جب کسی شخص کا علم اُس کی عقل سے زیادہ ہوجاتا ہے تو وہ علم اُس کے لیے وبال جان بن جاتا ہے۔علم کے شہر کے کے دروازے سے اعلان ہُوا صدق یقین کے ساتھ سوئے رہنا اُس نماز سے کہیں بہتر ہے جس کے پڑھنے میں یقین شامل نہ ہو۔امام علی کا فرمان ہے:جب عقل کامل ہو جائے تو کلام کم ہوجاتا ہے اور آدمی اکثر صیح بات کرتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

کبوتر بددعا کیوں دیتا ہے؟

کبوتر ایک ایسا خوبصورت اور دلکش پرندہ ہے جو ہر کسی کو اچھا لگتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ پرندہ اکثر گھروں میں پالاجاتا ہے اور گھروں کے علاوہ اکثر مزاروں پر بھی یہ پرندہ موجود ہوتا ہے کہتے ہیں کہ کبوتر وہ جانور ہے جس کے لئے حضرت نوح ؑ نے امن و سلامتی کی دعا فرمائی تھی اور یہی وجہ ہے کہ کبوتر انسانی آبادی سے مانوس ہے اور کوے کو خوف کی بد دعا دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ کوا انسانی آبادی سے ہراساں رہتا ہے اسی وجہ سے لوگ آج تک اسے منحوس سمجھتے ہیں آج ہم آپ کو یہ بتانے جارہے ہیں کہ گھر میں کبوتر پالنا کیسا ہے اور یہ کہ کبوتر بددعا کب دیتا ہے ؟کبوتر پالنے کے بارے میں بات کرنے سے پہلے آپ کے لئے کبوتر کی ایک پرانی کہانی پیش ہے تفاسیر میں ہے کہ حضرت نوح ؑ نے جب کشتی کو جودی پہاڑ پر ٹھہرا یا تو آپ ؑ نے کشتی کا وہ حصہ کھولا جہاں پرندے رہتے تھے تو آپ ؑ نے کوے سے فرمایا زمین کو دیکھ کہ اس پر کتنا پانی ہے یا کتنا شہر غرق ہوچکا ہے کوے کو ایک مردار جانور ملا وہ اسی کو کھانے میں مست ہوگیا واپس نہ آیا اسی سے عرب کی ایک کہانی مشہور ہے فلاں تو کوے سے بھی زیادہ دیر لگتا ہے۔چنانچہ حضرت نوح ؑ کو خشک اور سخت زمین کی ضرورت تھی اسی لئے اس کے دیر کرنے پر کبوتر کو بھیج دیا اسے زمین کا کوئی خطہ بھی نظر نہ آیا اسی لئے زیتون کا پتہ لے کر حاضر ہوگیااس سے حضرت نوح ؑ نے اندازہ لگایا کہ پانی کم ہے جس سے درخت ظاہر ہوگئے ہیں لیکن زیر آب ہے چند دن ٹھہر کر پھر اسی کبوتر کوبھیجا تو زمین کی کیچڑ میں اس کے پاؤں پھر گئے واپس آیا تو حضرت نوحؑ نے اسے دیکھ کر اندازہ لگایا کہ اب پانی زمین میں جذب ہوگیا ہے لیکن زمین خشک نہیں ہوئی حضرت نوح ؑ کبوتر کی اس کاروائی پر بہت خوش ہوئے اور اس کے گلے میں سبز طوق پہنایا آج وہی طوق کبوتر کی اس خوشبختی کی خبر دیتا ہے اور ساتھ ہی حضرت نوحؑ نے کبوتر کے لئے امن و سلامتی کی دعا فرمائی یہی وجہ ہے کہ کبوتر انسانی آبادی سے مانوس ہے اور کوے کو خوف کی بدعادی یہی وجہ ہے کہ کوا انسانی آبادی سے ہراساں رہتا ہے اسی وجہ سے لوگ آج تک اسے منحوس سمجھتے ہیں (تفسیر روح البیان ج5) یہ تو کبوتر کی کہانی تھی ایک ایسے کبوتر نے حضرت نوح ؑ کی بات مانی اور ان کے لئے خبر لانے کا کام کیا ۔فقہاء کے نزدیک گھروں میں شوقیہ پرندے رکھنا اور پالنا جائز و مباح ہے بشرطیکہ ان کی غذا اور سردی گرمی اور بارش سے حفاظت کا انتظام کیا جائے۔ اور جب اہل خانہ کہیں باہر جائیں تو ان کی غذا اور دیکھ بھال کا مناسب نظم کر کے جائیں۔سیدنا انس ؓ کے چھوٹے بھائی نے ایک پرندہ پال رکھا تھا جب رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں تشریف لاتے تو اس سے کہتے اے ابو عمیر پرندے نے کیاکیا(بخاری ح6129) یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے پرندے رکھنے سے منع نہیں فرمایا اگر گھر میں پرندہ پالنا منع ہوتا تو آپ ﷺ ضرور انس ؓ کے بھائی کو اس بات سے منع فرماتے ۔اسی روایت کی بنیاد پر یہ کہاجاتا ہے کہ گھر میں پرندوں کا پالنا جائز ہے لیکن جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا کہ ان کے پالنے کے لئے ضروری ہے کہ پرندوں کی ہر ضرورت کو پورا کیا جائے تا کہ پرندوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچے چنانچہ کبوتر بھی ایک پرندہ ہی ہے اسی لئے کبوتر کا گھر میں پالنادرست ہے یادرہے کہ پرندوں کو ستانے کے بارے میں ممانعت ہے جیسا کہ ابو داؤد میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کردہ ایک حدیث میں کبوتر کا ذکر ہے جس میں کبوتر اللہ کے رسول ﷺ کے سر مبارک پر منڈلا رہاتھا اور اپنی زبان میں شکایت کررہا تھا کہ کسی نے اس کے گھونسلے سے انڈے اٹھا لئے ہیں حضورﷺ نے صحابہ میں اعلان کیا اور ایک صحابی ؓ نے انڈے اٹھانا قبول کیا تو انہیں حکم دیا گیا کہ وہ گھونسلے میں انڈے واپس رکھ دیں تو اس روایت سے معلوم ہوا کہ پرندوں کو ستانا ناجائز ہے اور پرندوں کو ستانے سے اسی لئے روکا گیا ہے کہ پرندوں کی بددعا لگنے کا احتما ل ہے اور چونکہ کبوتر بھی ان پرندوں میں شامل ہے جو کہ انبیاء کا پسندیدہ رہا ہے اسی لئے اگر کبوتر کو ستایا جائے گا تو کبوتر بھی بددعا دے سکتا ہے لہذا کبوتر کو ستانے سے اجتناب کرنا چاہئے ۔کبوتر کے حوالے سے آپ کو بتاتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات اس کے بارے میں کیا کہتی ہیں ۔احادیث میں ہے کہ گھریلو کبوتر خدا کو بہت یادکرتے ہیں اہل بیت کو دوست رکھتے ہیں اور صاحب خانہ کو دعا دیتے ہیں کہ اللہ تمہیں برکت دے کسی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے تنہائی کی شکایت کی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایک جوڑا کبوتر کا پال لے جعفر ؒ فرماتے ہیں کہ کبوتر پیغمبروں کے پرندوں میں سے ہے کبوتر گھر میں رکھو چونکہ حضرت نوح ؑ نے اس کو پسند کیا ہے اور دعا دی ہے کہ کسی پرندے پر اتنا پیار نہیں آتا جتنا کبوتر پر آتا ہے آپ نے فرمایا جس گھر میں کبوتر ہوں اس گھر کے رہنے والے جنوں کی آفتوں سے محفوظ رہیں گے کیونکہ جنوں کے بچے گھروں میں کھیلتے پھرتے ہیں جس گھر میں کبوتر ہوتےہیں وہ ان سے مشغول رہتے ہیں اور آدمیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے کبوتر کا جو پر جھڑتا ہے وہ شیاطین کی نفرت اور بھاگنے کا سبب ہوتا ہے ۔ ان روایات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ کبوتر کا گھر میں پالنا موجب برکت ہے اور جیسا کہ آپﷺ صحابی کو گھر میں کبوتر پالنے کا بولاہے تو اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کبوتر پالنے میں خیر ہے ۔کبوتر پالنے کے ساتھ منسلک ہے یاد رہے کہ بعض لوگ شوق سے کبوتر پالتے ہیں ان کا شوق کبوتر پالنے کی حد تک ہوتا ہے لیکن بعض لوگ کبوتر بازی کی نیت سے کبوتر پالتے ہیں اور چونکہ کبوتر بازی میں وقت اور پیسہ کا ضیاع ہے ۔یاد رہے کہ کبوتر پالنا ایک مہنگا اور محنت طلب شوق ہے کبوتر بازی کے مقابلے اگر سخت گرمی میں ہوتے ہیں مگر ان کی تیاری سارا سال جاری رہتی ہے شوقین افراد ایک ایک کبوتر پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں اعلی نسل کے ان کبوتروں کو خاص طریقے سے تربیت دی جاتی ہے اور یہ مقابلے صوبائی اور قومی سطح پر ہوتے ہیں شوقین افراد آبادی میں جگہ جگہ پنجرے لگا کر اپنے وقت کا کافی حصہ ان پالتو پرندوں پر صرف کرتے ہیں اسی لئے کبوتر بازی کے بارے میں اگر فقہاء سے پوچھاجائےتو وہ اس کو درست نہیں فرماتے کیونکہ اس میں مال و وقت کا بہت ضیاع ہوتا ہے جو کہ فضول خرچی میں آتا ہے اسی لئے ہمیں ایسے کاموں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

چاول کا پانی پھینکیں مت کیونکہ اس عام سے پانی میں چھپے مہنگے راز

ٹہریں ! چاول کا پانی پھینکیں مت کیونکہ اس عام سے پانی میں چھپے مہنگے راز جو آپ کو بھی کردیں گے حیران

چاول سے بریانی کا تصور ذہن میں نہ آئے یہ تو ممکن ہی نہیں ہے لیکن آج بیوٹی کارنر خواتین کے لئے لایا ہے چاول کے پانی کے ایسے بہترین نسخے جن کو جان کر آپ چاول کا بھیگا ہوا پانی ہرگز نہیں پھینکیں گی، کیونکہ یہ آپ کے حسن میں کرتا ہے اضافہ، رنگ گورا، کیل مہاسوں کا خاتمہ اور اور بھی بہت کچھ ۔

1: چاول کا پانی آپ کے چہرے کی ایسی کلینزننگ کرتا ہے جو آپ کو سیلون میں بھی نہیں مل سکتی۔ اس لئے پکانے سے پہلے ذرا سا چاول کا بھیگا پانی چہرے پر لگا لیں اور کھانا پکنے کے بعد منہ دھو لیں۔ لیجئے کھانا بھی تیار، چہرہ بھی جواں۔
2: اس کا روزانہ اگر آپ استعمال کریں گیں تو آپ کی ڈھیلی ڈھیلی لٹکی ہوئی تمام جلد کا بھی خاتمہ باآسانی اور سستے پیسوں میں ہوجائے گا۔

3: اگر آپ کی یا آپ کے بچوں کی جلد پر دانے کیل مہاسے ہوگئے ہیں سوزش ہورہی ہے تو چاول کا یہ پانی آپ اپنے ساتھ ساتھ ان کے بھی چہروں پر لگا دیں اس کی افادیت سے دانے، کیل مہاسے اور دانوں کے بعد سوزش تمام تکلیفوں کی چھٹی ہوجائے گی۔

4: بالوں کو دھونے کے لئے بھی چاول کے پانی کا استعمال کرلیں پھر دیکھیں کیا چمکدار بال ہوجائیں گے اور کنڈیشننگ بھی بالکل فری میں۔ اس کے لئے آپ بال دھوتے وقت پہلے چاول کے پانی کو بالوں میں لگا کر مالش کریں اب سادے پانی سے دھو لیں، دیکھیں بال صاف بھی ہوگئے اور کنڈیشنر بھی لگ گیا۔۔

5: سورج کی گرمی سے چہرے یا جلد کی رنگت میں کالا پن آگیا ہے یا کسی اور وجہ سے تو آپ کے لئے یہ چاول کا بھیگا پانی مہنگا سیرم ثابت ہوسکتا ہے۔ آپ اس پانی سے منہ یا جلد کو دھونا معمول بنالیں، پھر آپ خود اپنے آپ میں واضح فرق دیکھیں گی

محبوب آپ کی محبت میں گرفتار ہو جائے گا۔۔۔

محبت کے ایک ایسے لاجواب وظیفہ کی بات کرتے ہیں جو کہ انتہائی لاجواب ہے اور انتہائی مجرب ترین ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ جوبھی محبت کے اس وظیفہ کو اپنائے گا اس کو سوفیصد اللہ رب ذوالجلال کے فضل و کرم سے فائدہ ہو گا چاہے محبت میں اس کی ناراضگی ہے چاہے اس کی کسی قسم کی کوئی پریشانی ہے تو اللہ تعالی اس کے محبوب کو اس کے تابع کر دے گا ۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو اس وظیفہ کے کرنے سے کامیابی عطا فرمائے ، وظیفہ انتہائی آسان انتہائی مختصر ترین ہے اور توجہ کے ساتھ اس وظیفہ کو پڑھنا ہے تا کہ جب آپ عمل کریں تو کسی قسم کی غلطی کی گنجائش باقی نہ رہے۔وظیفہ کسی بھی وقت کیا جاسکتاہے وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ وظیفہ کو آپ بغیر وضو کے بھی اور وضو کے ساتھ بھی کرسکتے ہیں ویسے اگر وضو کے ساتھ کریں تو زیادہ فائد ہ ہوگا ۔اور اس کے علاوہ وظیفہ کو کم سے کم سات دن زیادہ سے زیادہ اکیس دن کر سکتے ہیں اور اس سے کم چاہیں تو چودہ دن کر سکتےہیں اور اس کو معمول بنانا چاہیں تو معمول بھی بنا سکتے ہیں ۔سورہ فاتحہ شریف کو پڑھناہے پڑھنے کا طریقہ نوٹ فرمائیے ۔گیارہ بار سورہ فاتحہ کو پڑھنا ہے لیکن کا تصور آپ کے ذہن میں ہونا چاہئےاور اگر تصویر ہے تو سامنے رکھ لیجئے اور پھونک مارتے رہئے۔ جب آپ سورہ فاتحہ کو پانچ بارپڑھ لیں ۔اس کے بعد اللہ کا نام یَا رؤفُ کو گیارہ بار پڑھنا ہے ۔ ہر بار بسم اللہ شریف کو سورہ فاتحہ کے ساتھ ملا کر پڑھنا ہے اور پھر دوبارہ پانچ بار اللہ تعالیٰ کا اسم گرامی یَالَطِیفُ کو گیارہ مرتبہ پڑھیئے۔پھر ایک مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھیئے ۔اس کے بعد گیارہ بار اللہ رب العزت کا اسم گرامی یَا قَادِرُ کا ورد کر لیجئے۔اور پھر محبوب کی تصویر ہے تو اس پر پھونک مار دیجئے اگر تصویر نہیں ہے تو محبوب کا تصور کر کے اس کی طرف منہ کر کے پھونک ماریئے۔وظیفہ کو پڑھنے سے پہلے اور بعد میں درود ابراہیمی پڑھ لیجئے۔ اس وظیفہ کو اپنے
دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کیجئے۔شکریہ

ہنسی روک کر دکھائیں۔نئی نویلی دلہن نے شادی کے پہلے دن ہی۔۔

ایک آدمی کی شادی ہوئی اور دلہن نے پہلے دن ہی میاں سے ایگری منٹ کرلیا کہ ایک دن برتن میں دھویا کروں گی۔ اور ایک دن تم بیگم تھوڑی ٹوہر نکھرے والی تھی میاں مان گیا بیگم تھوڑی چالاک تھی جس دن اسکی باری ہوتی تو تھوڑے سے برتن خراب کرتی اور جلدی جلدی دھو لیتی ایک دن دونوں میں سیز فائر کی خلاف ورزی ہوگئی۔ مرد نے دل میں کہا پہلے تیرے پیار کی وجہ سے میں کوئی برتن خراب نہیں کرتا تھا اب دیکھنا جس دن بیگم کی باری تھی۔ اس دن میاں نے کہا بریانی بناوبیگم ادھر ادھر ہوئی تو میاں نے آگ تیز کرکے چاول نیچے لگادئیے پھر بھاگ کے دہی لے آیا۔ کیچپ بھی لے آیا تین چار برتنوں میں سلاد بنایا دو برتن کیچپ سے خراب کردئیے جب بیگم بریانی ٹرے میں لے کے آئی تو میاں نے تین چار پلیٹوں میں ڈال دی کہ تھوڑی ٹھنڈی ہوجائے بریانی کھاتے کھاتے میاں نے پندرہ سولہ برتن خراب کردئیے۔ پھر بیگم کو کہا چائے بنا کے لے آو بیگم چائے بنانے لگی تو میاں نے جلدی جلدی چینی چھپا دی آخر فیس بکی مرد تھا عورت کو مات دینا جانتا تھا بیگم نے دودھ میں پتی ڈال کے چولہے پہ رکھی اور میاں سے پوچھا چینی نہیں ملتی۔ میاں بولا دوسرے کمرے میں دیکھو بیگم چینی دیکھنے گئی تو میاں نے جلدی جلدی گیس تیز کردی چائے ابل کر سارے برتن کے ارد گرد لگ گئی۔ جب چائے بن کہ آگئی تو میاں نے ایک کپ کو تین چار کپوں میں ڈال لیا بیگم نے پوچھا تو بولا جانو گرم ہے ٹھنڈی کرلوں جب بیگم برتن اکھٹے کرکے دھونے لگی تو ایسے لگتا تھا۔ کہ ٹوٹی کے آگے ٹرک الٹا ہے بیگم بریانی کی کھرچن بھی اتارتی اور منہ ہی منہ میں من من کرتی بچہ جب تیری باری آئے تو سارا محلہ آکے تجھے آکے برتن دھلائے گا بس پھر کیا تھا دوسرے دن بیگم نے اپنے میکے فون کیا کے آپ سب کی دعوت ہے ہمارے گھر میکے والے کوئی فیصل آبادی تھے۔ انہوں نے دس بارہ برس قبل بیاہی ہوئی بیٹیوں کو بھی فون کرکے بلا لیا پچیس تیس بچے تھے دس بارہ عورتیں سات آٹھ مرد کہیں بریانی پک رہی ہے۔ کہیں کسٹرڈ بن رہا ہے کہیں بڑے ڈونگوں میں دہی ڈالی جا رہی ہے کہیں چائے بن رہی ہے چائے پی لی گئی برتن سائیڈ پہ کرکے نئے برتن میں پھر چائے بنائی گئی نئے کپ اتارے گئے قصہ مختصر کہ بیگم کہ میکے والے چلے گئے مگر برتن دھونے سے پہلے میاں کو دو گلوگوز کی ڈرپس لگ چکی تھیں۔

یہ نسخہ اپنائیں اور بن جائیں سپر مین۔۔۔

ٹیکساس: مچھلی کے تیل کی خوبیوں سے آپ واقف ہوں گے، اس کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ یہ دل کی صحت کے لیے بھی مفید ہے، تاہم اب امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ مچھلی کے تیل کے کیسپول امراض قلب سے نہیں بچا سکتے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن سائنٹفک سیشنز میں گزشتہ دنوں پیش کیے جانے والے تحقیقی مقالوں میں کہا گیا کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول کا استعمال دل کی صحت کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ مچھلی، گریوں اور بیجوں جیسی غذا میں پائی جانے والی صحت کے لیے ضروری چکنائی کی قسم ’اومیگا تھری فیٹی ایسڈز‘ اب سپلیمنٹس کی شکل میں بھی دستیاب ہے،لوگ وسیع پیمانے پر مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں مگر تحقیقی رپورٹس میں معلوم کیا گیا ہے کہ یہ کیپسول دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔ پہلی تحقیق میں طبی ماہرین نے پایا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز یا وٹامن ڈی سپلیمنٹ سے دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی (atrial fibrillation) کے مسئلے میں کوئی فائدہ نہیں دیکھا گیا۔ اس تحقیق میں 26 ہزار کے قریب مرد و خواتین کو شامل کیا گیا، جنھیں دل کا کوئی عارضہ لاحق نہیں تھا، پھر انھیں 5 سال تک اومیگا تھری سپلیمنٹ، زیتون کا تیل یا سویابین آئل، یا وٹامن ڈی تھری کا استعمال کرایا گیا، پانچ سال بعد محققین نے دیکھا کہ ان میں 900 لوگوں میں دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کا مسئلہ سامنے آیا جس کا تناسب 3.6 فی صد بنتا تھا۔ ڈاکٹر کرسٹین البرٹ نے مقالہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سپلیمنٹس کے استعمال سے دیگر افراد میں بھی اس بیماری کے خطرے میں کوئی نمایاں فرق نہیں دیکھا گیا، جب کہ ایٹریل فائبریلیشن ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، اس سے معیار زندگی خراب ہو سکتا ہے، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ اس کی روک تھام کے لیے بنیادی اقدامات کریں جیسا کہ وزن کم کرنا، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا وغیرہ۔ اس دوسری تحقیق میں 13 ہزار 78 افراد کی صحت کا جائزہ لیا گیا، اس میں بھی طبی ماہرین نے دیکھا کہ اومیگا 3 فیٹی ایسڈ سپلیمنٹس نے دل اور اس کی شریانوں کو لاحق کسی خطرے کم نہیں کیا، بتایا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سپلیمنٹس سے امراض قلب کے خطرے میں کمی نہیں آتی۔ تحقیق میں شامل افراد کو دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ لاحق تھا، اور ان کا علاج کولیسٹرول کم کرنے والی ادویہ سے کیا جا رہا تھا، دو سال تک ان میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے کردار کو نوٹ کیا گیا لیکن کوئی فائدہ نظر نہیں آیا۔ اس کے برعکس یہ دیکھا گیا کہ سپلیمنٹس استعمال کرنے والے افراد میں فائدے کی بجائے غذائی نالی پر منفی اثرات کی شرح ان سے دور رہنے والے افراد کے مقابلے میں 25 فی صد سے زیادہ تھی۔ محققین کا کہنا تھا کہ متعدد ٹرائلز سے اب ثابت ہو چکا ہے کہ مچھلی کے تیل کے دل کی شریانوں کی صحت پر کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ برطانیہ میں بھی اس سلسلے میں ایک تحقیق سامنے آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ اومیگا تھری سپلیمنٹس کا استعمال کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا، محققین کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان سپلیمنٹس سے فالج، کینسر اور دیگر امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، لیکن انھیں روانہ کھانے سے کسی فرد کی صحت پر کوئی خاص اثر مرتب نہیں ہوتا۔ واضح رہے مچھلی ایک ایسی غذا ہے جو صحت کے لیے بے حد مفید ہے، طبی ماہرین مچھلی کو اپنی غذا کا حصہ بنانے کا مشورہ ضرور دیتے ہیں۔