تین قسم کی عورتیں کبھی اپنا گھر نہیں بسا سکتیں: ایسی عورتوں سے کنارہ کر لینا ہی بہتر ہو تا ہے! جھوٹی عورت! جھوٹی عورت کبھی اپنا گھر نہیں بسا سکتی، کیونکہ جھوٹ بو ل ، بول کر وہ سب کی نظروں میں اپنا مقام کھو دیتی ہے اس کے اپنے سچے رشتے بھی اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنےلگتے ہیں جھوٹ کی بنیاد پر بنائے رشتے سچ کی ایک معمولی سی چوٹ سے ٹوٹ جا تے ہیں

بغض رکھنے والی عورت! حضرت علی ؓ نے فر ما یا: ایک د وسرے سے بغض نہ رکھو۔ یہ خیرو بر کت کے زوال کا باعث ہے! دھوکہ دینے والی عورت! کبھی کبھی میٹھی گفتگو کر کے لوگ آپ کو عزت نہیں دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں! جو رشتے تمہیں تکلیف دیں گے ان سے دوری اختیار کر لو وہ خود لوٹ آ ئیں گے مگر اُس وقت جب تمہارے دل سے اُتر چکے ہوں گے کیونکہ وہ تمہاری قدر سے نہیں پچھتاوے سے لوٹتے ہیں۔

جس کی دی ہوئی تکلیف سے آج تم رو رہے ہو وہ کل تمہارے پچھتاوے میں روئے گا! عورت خدا کی نعمت ہے. عورت اگر بیٹی ہے تو سراپا رحمت. بیوی ہے تو شوہر کے نصف ایمان کی وارث. ماں ہے تو قدموں تلے جنت ہے. عورت مرد کی عزت کا تاج ہے. عورت شرم و حیا کا مجسمہ ہے. دنیا میں مردوں کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہے.

لیکن معاشرے نے عورت کی دو ہی قسمیں مقرر کر دی ہے. عورت یا تو اچھی ہے یا بری، عورت نیک ہے یا بد، عورت کے لیے درمیانہ رستہ اختیار کرنے کا کوئی آپشن نہیں ہے. ایمان کی کمزوری اور دنیا کی رنگینی نے آج کی عورت کے لفظی معنی ہی تبدیل کر دیے ہیں. ماضی میں عورت کی آنکھ کی حیا اور لہجے کی سختی نے مرد کے نفس کو زنجیروں میں باندھے رکھا تھا۔

آج کی عورت عیار و مکار ہے. اتنی تیزی سے ہمارے ملک میں غربت اور مہنگائی میں اضافہ نہیں ہو رہا. جتنی تیزی سے آج کی عورت کا ایمان ڈگمگا رہا ہےپہلی قسم کی عورت میں ایمانی جذبہ، کردار کی بلندی، دینداری و خودداری، ایسی جیسے گٹھی میں گھول کر پلائی گئ ہو.

یہ باعزت بیٹی، وفادار بہن، نیک و پرہیزگار بیوی، اور پاکیزہ ماں ہے. حالات جیسے بھی ہو اس قسم کی عورت کے ایمان میں راںئ کے دانے کے برابر بھی کمی نہیں آتی. بلکہ مشکل حالات ان کے ایمان کو اور پختہ کر جاتے ہیں. غربت، بیوگی، طلاق ، یا بیماری، مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنی ہی عزت کی محافظ نہیں بلکہ اپنے باپ، بھائی، خاوند اور بیٹے کی عزت کی حفاظت بھی۔

اس نیک صفت خاتون کے کمزور کندھوں پر آجاتی ہے. ایسی عورتیں مشکل حالات میں اپنے اندر مردانہ صلاحیتوں کو اجاگر کر کے زمانے کا مقابلہ کرتی ہے. یہ وقت آنے پر باپ اور بیٹے کا کردار ادا کرتی ہے. اور اپنی نسلیں سنوار جاتی ہے. میرے پیارے آقا دو جہاں رحمت للعالمین نے انہی عورتوں کے بارے فرمایا،اس کائنات میں سب سے اعلٰی ترین چیز نیک بیوی ہےبیوی نیک ہو تو دین نسلوں تک جاتا ہے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں