آج ایک سوال آیا سوال یہ ہے کہ بیوہ عورت کے ساڑھے تین ماہ عدت فرض ہے یا سنت چلتے ہیں

اس سوال کے جواب کی جانب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بیوہ عورت کی عدت چار مہینے دس دن یعنی ایک سو تیس دن ہے اور یہ عدت فرض ہے ۔ اسی طرح ایک اور سوال آ یا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مرد عدت والی عورت سے عدت کے درمیان نکاح کر بیٹھے پھر ا س قصور کا کس طرح ازالہ کر ے اور کس طریقے سے عورت کو حلال کر لیا جا ئے چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جانب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عدت میں نکاح نہیں ہو تا جن لوگوں نےنکاح کیا ان کو توبہ کرنی چاہیے اور اپنا نکاح دوبارہ پڑھوانا چاہیے سوال یہ ہے کہ اسلام میں بنیادی طور پر عدت کا مقصد کیا ہے چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جانب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ط ل ا ق میں بچے کی ولدیت کا تعین کر نا

اور وف ات کی عدت میں ولدیت کے تعین کے ساتھ شوہر کے ساتھ وابستگی کا ثبوت دینا ہے اسی طرح ایک اور سوال آیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ط ل ا ق شدہ عورت کی عدت کی مدت تین ماہ واری ہے اور بیوہ عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے اس کی وجہ کیا ہے۔ چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جانب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے اس طرح عدت ذکر کی ہے اور مسلمانوں کا عمل چودہ سو سال سے بغیر کسی چوں چراغ کے اسی کے مطابق چلا آ ر ہا ہے اسی طرح ایک اور سوال آ یا ۔ سوال یہ ہے کہ میری شادی ہو ئی لیکن شوہر بہت ہی زیادہ خراب ثابت ہو ا دو سال سے لے کر اب تک میں اپنے والدین کے پاس رہ رہی ہوں اسی عرصے میں میرے شوہر نے مجھے کوئی خرچہ نہیں دیا اور میرا ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہا ۔

اب مجھے جلد ہی ط ل ا ق ہو جا ئے گی آپ سے گزارش ہے کہ مجھےبتائیں فقہ حنفیہ کے مطابق مجھ پر عدت واجب ہوتی ہے یا نہیں چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جانب اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ط ل ا ق کے بعد عدت لازمی ہے خواہ میاں بیوی کا تعلق کافی دیر سے نہ رہا ہو۔ اللہ پاک ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فر ما ئےا ور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے آمین۔ اگر ہم اسلام کے مطابق چلتے ہیں تو اس سے ہماری ہی زندگی آسان ہو گی نہ کہ کسی اور کی تو ہمیں چاہیے کہ ہم اسلام کے مطابق ہی اپنی زندگیاں بسر کر یں تا کہ ہماری دنیا بھی آسان ہو جا ئے اور ہماری آخرت بھی آسان ہو جا ئے۔

 

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں