احتلام ایک ایسی بیماری ہے۔ جو زیادہ تر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ہوتی ہے۔ اس بیماری میں سوتے وقت منی کا خارج ہوجاناہے۔ اس کی وجہ گندے خیال آنا یا رات کو سوتے وقت آنکھوں کے سامنے کچھ ایسے منظر آتےہیں۔ جن میں انسان کا جسم گرم ہوتاہے۔ اور منی نکلنا شروع ہوجاتی ہے۔ اگرچہ احتلام بھی جریان کی ایک صورت ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسانہیں ہے۔ بلکہ جریان کی ابتداء ہے۔ نیند میں خواب کے ساتھ یا بعض اوقات بغیرخواب کے ساتھ انزال ہوجاتاہے۔ ابتداء میں خواب سے یا جنسی تعلقات سے احتلام ہو جاتاہے۔لیکن جب مرض شدت اختیار کر جاتا ہے تو ہفتے میں تین بار یا رات کو سوتے وقت دو بار احتلام ہو جاتاہے۔ اس کےلیے ایک ایسا مجرب نسخہ ہے جس کے کرنے سے احتلام ختم ہو جائے گا۔ اس نسخہ میں پانچ چیزیں ہیں۔ ان میں سنامکی، اجوائن ، نمک سیاہ، کلونجی اور تنبہ ہے ۔

ان پانچ چیزوں کو برابروزن میں لینا ہے۔ جو کسی پنساری کی شاپ سے مل جائےگی۔ ان پانچ چیزوں کو علیحدہ علیحدہ کسی دستے یا بلینڈر میں پیس لیں۔ اور پاؤڈر بنالیں۔ ان سب اجزاء کو مکس کر لیں۔ اور سفوف بنا لیں۔ اب پانی کی مددسے چنے کے برابر گولیاں بنالیں۔جنسی معاملات میں بھی شریعت ایسے امور پر واضح جواب دیتی ہے کہ ایک مسلمان کو کس صورت حال میں کیا کرنا چاہئے۔

خاص طور پر مردوں کو یہ مسئلہ زیادہ پیش آتا ہے وہ جب کوئی جنسی منظر دیکھ لیں تو ان کا مادہ خارج ہوجاتا ہے موجودہ دور میں جب بے حیائی بہت زیادہ عام ہوچکی ہے تو نوجوان کیا بوڑھے بھی اس اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں جس سے ان کا جنسی نفس کمزور ہو رہا ہے اور وہ اپنا قابو کھو رہے ہیں یہ صورت حال ایک جنسی بیماری کی علامت نظر آتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں بلکہ اس بارے میں اسلام نے وا ضح طور پر ہدایت دی ہے کہ ہر کسی کو اپنی جسمانی پاکیزگی کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ ذہنی ،بصری پاکیزگی کا بھی لازمی خیال رکھنا چاہئےلیکن مسلمان موجودہ زمانے میں اسکا شکار ہوچلے ہیں۔خیر حالات چاہے جیسے بھی ہوں ،اس فطری عمل کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔

کہ اگر کوئی منظر دیکھنے سے مادہ تولید خود بخودخارج ہو جائے تو کیا غسل واجب ہوجاتا ہے ؟ اس بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب ادارہ منہاج القران کے فتوی آن لائن میں مفتی شبیر قادری نے دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب مادہ تولید شہوت کے ساتھ خارج ہو تو اس کا خروج قوت اور جست کے ساتھ ہوتا ہے جس کے بعد وہ ہیجان ختم ہوجاتا ہے۔

مادے کے خروج سے غسل واجب ہوتا ہے مگر جب بیماری، بوجھ اٹھانے یا چوٹ لگنے کی وجہ سے مادہ تولید نکلا ہو تو وہ تیزی سے خارج نہیں ہوتا لہذا ایسی صورت میں غسل واجب نہیں ہوتا۔ اسی طرح شہوت کے ساتھ مذی خارج ہونے سے بھی غسل واجب نہیں ہوتا۔ مذی کے خروج کے وقت وہ شہوت یا لذت حاصل نہیں ہوتی جو مادہ تولید کے نکلنے سے حاصل ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ مذی کے اخراج سے غسل واجب نہیں ہوتا صرف وضو ٹوٹ جاتا ہے۔شہوت کے ساتھ مطلقاً مادہ تولید کا نکلنا ناقضِ غسل ہے اور اس کی وجہ سے غسل واجب ہوجاتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے ’’پانی کا استعمال پانی نکلنے سے ہے .(یعنی غسل اس صورت میں واجب ہوگا جب انزال ہو)‘‘اس لیے پانی یعنی مادہ منویہ کے انزال سے پانی یعنی غسل واجب ہوجاتا ہے۔ یہ حکم مطلق ہےاس میں کسی خاص مقدار کی قید نہیں لہٰذا جب منی شہوت کے ساتھ نکلے تو غسل واجب ہو جاتا ہے خواہ اس کی مقدار کم ہو یا زیادہ ہو۔اور دو دو گولیاں کو صبح، دوپہراور شام میں کھانے کے بعد لے لیں۔ تو تین دن کے استعمال سے احتلام ختم ہو جائے گا۔

 

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں