ںماز پڑھنے کے لئے دن میں 5 وقت مسجد جانا ہمیں دشوار لگ رہا ہوتا ہے اور کچھ لوگ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو گھر میں رہ کر نماز نہیں پڑھتے، مگر آج ہم آپ کو ایک ایسے شخص کی کہانی بتانے جا رہے ہیں جو دن میں 5 وقت گہرے سمندر میں تیر کر نماز پڑھنے جاتا ہے۔

بنگلہ دیش کے ایک گاؤں میں سیلاب آگیا تھا جس کی وجہ سے سارا علاقہ ڈوب گیا اور قریب میں کوئی مسجد نہیں تھی، مسجد کے امام روزانہ دن میں 5 مرتبہ گہرے سمندر میں تیر کر مسجد میں آزان دیتے اور نماز پڑھنے جاتے ہیں۔ امامِ مسجد کہتے ہیں کہ:

” پہلے جب سیلاب نہیں آیا تھا تو مسجد آنا آسان تھا، لیکن اب زمینی راستے ختم ہوگئے، اس لئے میں روزانہ اب تیر کر آتا ہوں، کبھی کشتی مل جاتی ہے تو اس میں بیٹھ کر آجا تا ہوں اور کبھی میں تیر کر آتا ہوں،

ایسے حالات میں آگے بڑھنا اور نماز کے لئے آنا مشکل ہے البتہ جب میں آسکتا ہوں تو کیوں نہ آؤں، اللہ نے بسترِ مرگ پر بھی نماز کو کسی طرح پڑھنے کا حکم دیا ہے تو زندہ جاوید آدمی کیوں نماز نہ پڑھے۔ ”

مذید کہتے ہیں کہ: ” میرا گھر کچا تھا، اینٹوں کا بنا مکان تھا جو ایک سیلاب کے جھٹکے میں ہی ٹوٹ گیا، گھر والے بیچ سڑک پر رہ رہے ہیں نہ کھانے کا کچھ انتظام ہے اور نہ پینے کا، بہت مشکل وقت ہے میرے لئے، میں کیسے اپنے گھر کا گزر بسر کروں، یہاں لوگ جتنی امداد دے دیتے ہیں

میرے گھر والوں اور بچوں کا وہی کھانا ہوتا ہے۔ رات کے وقت میں مسجد کی چھت پر سو جاتا ہوں تاکہ فجر اور تہجد ادا کرسکوں اور ازان دیتا ہوں تاکہ اللہ کو یاد کرنے والے یہاں نماز کی ادائیگی وقت پر کریں۔ ”

امام کہتے ہیں: ” میرے بچے دو دو دن بھوکے رہے، میں بھی بھوکا رہا، مسجد میں آزان دینے اور نماز پڑھنے آتا ہوں، یہاں سے واپس میں بھی بھوکا چلا جاتا ہوں، کیسے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاؤں، جبکہ یہاں ہر کوئی جانتا ہے

کہ میرا گھر کتنی دور ہے اور اب ہم سڑک پر رہنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ کسی کا نکاح کرواتا ہوں تو وہ مجھے چند پیسے دے دیتے ہیں جس سے دو وقت کی روٹی بچوں کو کھلا پاتا ہوں۔ ”

 

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں