جاپانی پھل مارکیٹ میں وارد ہوچکا ہے۔ویسے تو اس کا نام پرسیمن

ہے لیکن پاکستان میں اسے جاپانی پھل کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ یہ جاپان کا قومی پھل ہے۔پاکستان میں اس کی درمیانے درجے کی مارکیٹ ہے۔پھل ستمبر تادسمبر دستیاب رہتا ہے۔ وٹامن ،فاسفورس ،پوٹاشیم اور مینگانیز اس کے پھل میں کئی دوسرے پھلوں سے زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔کنو اور آم کی طرح اسے رج کے کھایا نہیں جاسکتا کیونکہ اس کے پھل میں کافی مقدار میں ٹینن پائے جاتے ہی جو معدے کا ویسا ہی حشر کرتے ہیں جو ٹینن لیدر کی تیاری کے عمل کے دوران کھال کے ساتھ کرتے ہیں۔لہذا ہاضمے کے مسائل پیدا کرتے ہیں ۔ پھل تڑائی کے بعد بھی پکتا رہتا ہے اس لیے دور دراز علاقوں میں ترسیل کے لیے اسے مکمل طور پر پکنے سے پہلے اتار لیاجاتا ہے۔ جاپانی پھل کی چلنگ کی ضروریات بہت کم ہیں لہذا یہ گرم میدانی علاقوں میں بھی فروٹنگ کرتا ہے۔باغ جناح لاہور میں اس کے پودے موجود ہیں جو فروٹنگ کا عمل مکمل کرتے ہیں لیکن عوام الناس پھل پکنے کا مکمل نہیں ہونے دیتے۔ گاب ، املوک ، کیندو اور آبنوس بھی جاپانی پھل ہی کی جنس کے پودے ہیں۔آبنوس کے علاوہ یہ سارے پودے پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ گاب زیبائشی پودا ہے جس کی نئی پھوٹ سرخ رنگ کی ہوتی ہے جو اسے دیدہ زیب بناتی ہے۔املوک کے تازہ پھل کی زیادہ مارکیٹ نہیں ہے بلکہ یہ خشک کرکے ہی فروخت کیاجاتا ہے۔کیندو کا پھل املوک کے سائز کا ہوتا ہے لیکن کھانے کے قابل نہیں ہوتا ۔ آبنوس کا درخت سری لنکا میں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔اس کی لکڑی کی ڈینسٹی بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کا شمار چند ایسے درختوں میں ہوتا ہے جن کی لکڑی پانی میں ڈوب جاتی ہے۔اسی لیے اسے چھوٹے بحری جہازوں کے نچلے پھٹوں کے ساتھ لگایا جاتا تھا تاکہ جہاز کا توازن برقرار رہے۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں