اولاد کی پیدائش والدین کے لیے کسی قیمتی لمحات سے کم نہیں ہوتے۔ وہ دن ان کی زندگی کا سب سے حسین دن ہوتا ہے۔ ماں اور باپ جو اتنے ماہ خوشیوں کا انتظار کرتے ہیں، اتنی تکلیفیں جھیلتے ہیں اور پھر وہ خوشیاں ماند پڑجاتی ہیں۔

آج ہم چار ایسی خواتین کے بارے میں بات کرنے جارہے ہیں جن کے ہاں جڑواں بچوں اور بچیوں کی پیدائش ہوئی۔

1- رواں ہفتہ کراچی میں ایک جوڑے کے ہاں تین بیٹوں کی ایک ساتھ پیدائش ہوئی جس پر نہ صرف گھر والے نے حد خوش ہوئے۔

کراچی میں نیاز منزل کے قریب نجی اسپتال میں خاتون کے ہاں بیک وقت 3 بیٹوں کی پیدائش ہوئی، ان بچوں کے والد سعید بھی کہتے ہیں کہ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے، اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے شادی کے بعد پہلی اولاد تین بیٹے عطا کیے۔ میں ساری زندگی اپنے بچوں کی کفالت بخوشی کروں گا۔

ان کے والد چونکہ مزدور ہیں اس لئے اسپتال کی جو فیس یہ دے سکیں گے انتظامیہ صرف وہی وصول کریں گے۔

2- ریاست آندھرا پردیش میں بھارتی خاتون کے ہاں واقعہ پیش آیا تھا، ان کی جڑواں بیٹیاں 15 ستمبر 2019 کو کشتی حادثے میں دنیا سے چل بسی تھیں۔ لیکن حیران کن طور پر دو سال بعد 15 ستمبر 2021 کو ان کے ہاں دوبارہ 2 جڑواں بیٹیوں کی پیدائش ہوئی۔

3-دو سال قبل انڈیا کی مغربی ریاست آندھرا پردیش میں ایک 73 سالہ خاتون نے جڑواں بچیوں کو جنم دیا ہے۔

یہ ایک حیرت انگیز واقعہ تھاکہ جب کسی بوڑھی خاتون نےجڑواں بیٹیوں کو جنم دیا۔ 73 سالہ خاتون منگیاما یارامتی کے ہاں جڑواں لڑکیوں کی پیدائش ایک مقامی ہسپتال میں آئی وی ایف طریقہ علاج سے ہوئی ہے۔

منگیاما یارامتی کے شوہر کی عمر 82 برس ہے۔ منگیاما نے بتایا کہ ان کی اور ان کے شوہر کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ ان کہ یاں بچے ہوں مگر اب تک وہ اولاد سے محروم تھے۔

بچیوں کی پیدائش کے بعد بی بی سی تیلگو سے بات کرتے ہوئے ان کے والد سیتراما راجراؤ کا کہنا تھا کہ ‘ہم بے حد خوش ہیں۔

4- بچوں کی پیدائش خیریت سے ہو یہی تمام والدین کی دعا ہوتی ہے، چاہے وہ امیر ہوں یا غریب لیکن بنگلہ دیش کی ایک 20 سالہ خاتون کے ساتھ ایسی انہونی پیش آئی کہ دنیا حیران رہ گئی۔ دراصل یہ بہت غریب فیملی سے تعلق رکھتی تھیں اور ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ الٹراساؤنڈ ہی کرا سکیں۔ان کے ہاں بخیریت ایک بیٹی کی پیدائش مقامی ہسپتال میں ہوگئی، جس کے ٹھیک 26 دن بعد اس کو پیٹ میں درد کی شکایت بڑھی ، جب ہسپتال گئیں تو ڈاکٹر نے آپریشن کیا، اس وقت عارفہ نے 2 جڑواں بچوں کو جنم دیا، جوکہ سب سے زیادہ حیران کن تھا۔

عارفہ کو uterus didelphys نامی بیماری تھی جس میں بچے کی پیدائش سے قبل یہ واضح نہیں کیا جاسکتا کہ کتنے ایمبریو جسم میں تخلیق پا رہے ہیں اور پھر انہوں نے حمل کے 9 ماہ چیک اپ کروایا اور نہ الٹراساؤنڈ، اگر یہ کرواتی تو امید ظاہر کی جاتی ہے بچوں کا پتہ چل جاتا۔ مگر بہت صحیح وقت پر عارفہ کو پیٹ درد ہوا اور وہ ہسپتال پہنچ گئی، اگر تھوڑی دیر اور ہوتی تو ماں اور بچے انتقال کر جاتے۔ لیکن پیدائش کے بعد ماں اور ان کے بچے سب صحت مند ہیں۔ جڑواں میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی جبکہ پہلے ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی۔

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں