یہ دعا حضرت موسی علیہ السلام نے وادی طوی میں اللہ تعالی سے مانگی تھی یعنی میرے دل میں اس عظیم منصب کو سنبھالنے کی ہمت پیدا کر دے اور میرا حوصلہ بڑھا دے چونکہ یہ ایک بہت بڑا کام

یہ دعا حضرت موسی علیہ السلام نے وادی طوی میں اللہ تعالی سے مانگی تھی یعنی میرے دل میں اس عظیم منصب کو سنبھالنے کی ہمت پیدا کر دے اور میرا حوصلہ بڑھا دے چونکہ یہ ایک بہت بڑا کام حضرت موسی علیہ السلام کے سپرد کیا جا رہا تھا جس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت تھی اس لیے آپ نے یہ دعا کی کہ مجھے بہت صبر وہ ثبات وہ تحمل وہ بے خوفی اور وہ عزم عطا کر جو اس کام کے لیے درکار ہے قرآن کے الفاظ سے جو بات ہماری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام اپنے اندر خطابت کی صلاحیت نہ پاتے تھے اور ان کو اندیشہ لاحق تھا کہ نبوت کے فرائض ادا کرنے کے لیے اگر تقریر کی ضرورت بھی پیش آئیں تو ان کی طبیعت خراب ہو جائے گی اس لئے انہوں نے یہ دعا فرمائی کہ یا اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ میں اچھی طرح اپنی بات کو سمجھا سکوں یہی چیز تھی جس کا فرعون نے ایک مرتبہ آپ کو طعنہ دیا کہ یہ شخص تو اپنی بات بھی پوری طرح بیان نہیں کر سکتا اور یہی کمزوری تھی جس کو محسوس کر کے حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو مدد گار کے طور پر مانگا آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کی یہ کمزوری دور ہوگئی تھی اور وہ خوب زور دار تقریر کرنے لگے تھے
ہم سب مسلمانوں کو پریشانی کے عالم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام والی دعا جو انہوں نے اللہ تعالی سے مانگی تھی یہ پڑھنی چاہیے

شیئر کریں