عنوان:اولاد کی بھلائی کے لیے وظیفہ
سوال:میرے دو بیٹے ہیں، ایک کی عمر دس سال ہے اور دوسرا آٹھ سال کی عمر کا ہے، اور دونوں کو اتنا معلوم ہے کہ ان کے ماں باپ پانچ وقت کی نمازی ہیں اور قرآن کو روز پڑھنے والوں میں سے ہیں، بہت دکھ ہوتا ہے جب میں باربار ان کو نماز کے لیے کہتا ہوں تو دونوں اس بات کو نظر آنداز کرتے ہیں اور جواب دینے کے بجائے وہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں نہ وہ اپنی امی کے کہنے پر چلتے ہیں اور نہ میرے کہنے پر ․․․․ بلکہ آپس میں سارا دن لڑتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے پورے محلہ میں مشہور ہو گئے ہیں کہ والدین بہت سختی کرتے ہیں بہت کوشش کی کہ کسی طرح یہ اپنی ذمہ داریوں کو کسی حد تک ادا کرنے والے بن جائیں مگر بے سود۔
جواب نمبر: 145766
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 091-045/H=2/1438

روزآنہ کسی وقت گیارہ مرتبہ درود شریف پھر گیارہ دفعہ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْیُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِینَ إِمَامًا اس کے بعد پھر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھ کر پانی پر دم کرکے بچوں کو پلا دیا کریں اور یہی عمل رات کو سونے سے قبل کرکے بچوں پر دم کردیا کریں خواہ بچے سوئے ہوئے ہوں یا جاگ رہے ہوں او ریہی عمل بچوں کی والدہ کو بھی بتلادیں وہ یہی کرلیا کریں دوسرا کام یہ کریں کہ گھر میں کوئی مناسب وقت تجویز کرلیں جس میں آدھا گھنٹہ کم از کم فضائل اعمال (ب) منتخب احادیث (ج) حیاة المسلمین (د) جزاء الاعمال کی تعلیم ہو جایا کرے اس میں باوضوء بیٹھ کر سننے سنانے کا نظام بنائیں اور بالخصوص سب بچوں کو حکمت و بصیرت نرمی و شفقت سے بیٹھنے کا پابند بنائیں آہستہ آہستہ ان شاء اللہ بچوں اور بڑوں کے حالات میں سدھار آتا رہے گا، اللہ پاک سب بچوں کو عافیت و سعادت دارین سے نوازے مکارہ سے محفوظ رکھے اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

شیئر کریں