تپتی دھوپ میں وہ چلتے ہوے جارہے تھے شائد کسی منزل کو یا پھر راستہ بھٹکنے کو ؟ لیکن وہ تینوں دھوپ کی تپش سے نڈھال پسینے میں شرابور دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہے تھے یہاں تک ان کے گلے سے لے کر لبوں تک نمی ساتھ چھوڑے جا رہی تھی۔
پانی کی طلب تھی کہ ستاے جا رہی تھی اپنے سامان کو ٹٹولتے ہوے کچھ باسی کچھ بچے کچے کھانے کی اشیاء کے ساتھ کہیں کسی کونے سے پانی کی چھوٹی سی کچلی ہوئی بوتل دکھائی دی خالی بوتل میں پانی کے چند قطرے تینوں کی پیاس کا جیسے مزاق اڑا رہے ہوں لیکن انہوں نے انہی چند قطروں کو مل بانٹ کر حلق کو تر کیا ۔لیکن شدید گرمی آگ اگلتا سورج انہیں چیتاونی دے رہا تھا کہ منزل کو پہنچو گے یا شائد۔۔۔۔۔۔؟ یہ شائد کئیں سوال پیدا کر رہا تھا لیکن وہ تینوں چلتے رہے پھر ایک جگہ نہیں ایک گرا پڑا مکان نظر آیا ۔ایک انجانی سی امید لئے مکان کی طرف چل دیئے اکھڑتے اکھڑتے قدموں سے چلتے بلآخر وہ اس ٹوٹے پھوٹے مکان تک پہنچے ۔پہنچے تو کیا دیکھا ۔چند آدھی ادھوری دیواریں اور ایک کمرہ ۔کمرہ کیا چھت کا جیسے نام ہی ہو ہر طرف سے ٹوٹی پھوٹی چھت ۔پھر کیا تینوں نے لمبی آہ بھری کہ لو چلی رے سر پر چھاوں اک ٹھکانے کی آدی ادھوری امید ۔لیکن وقت کا تقاضہ تھا کہ اسی گرے پڑے مکان سے ہی وابستہ رہنا تھا اور دوسرا کوئی چارہ بھی کہاں تھا؟
چھت کے کچھ حصے جو ہلکی سی چھاوں کا ذریعہ بن رہے تھے انہیں کے سہارے تینوں نے الگ الگ اپنی جگہ تجویز کر لی ۔
لیکن شدید دھوپ میں یہ بے نام سا ٹھکانہ بھی ان کے لئے کسی بڑے تحفہ سے کم نہ تھا۔
کچھ دیر وہ آرام کرنے لگے ۔لیکن اس شدید تپش میں آرام کیا اور نیند کیا۔
پھر اچانک آسمان پر ایک چھوٹی سی بدلی یعنی بادل کا ننا ٹکڑا نمودار ہوا ۔بیک وقت تینوں نے آسمان کی طرف دیکھا لیکن ان تینوں کی آنکھوں کی چمک ایسی کہ جیسے یہ اک چھوٹا سا بادل کا ٹکڑا ساری دنیا کی پیاس سیر آپ کرنے آیا ہو لیکن امید کا دامن پکڑنے والا اور نا شکری سے کوسوں دور رہنے والے کے قدم چومتی ہے کامیابی ۔دیکھتے ہی دیکھتے چھوٹی سی بدلی نے پورے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا پھر ایک ٹھنڈا ننا سا قطرہ زمین کی طرف چلا اور سکڑے ہونٹوں کو چھو کے زندگی کی نوید دے گیا یہاں تک کہ تیز بارش اور ٹھنڈی ہواون نے یکسر حالات کا نقشہ ہی بدل دیا ۔تینوں دل کے جھروکوں سے ٹپکتی خوشی سے ناچنے میں صاف جھلک رہی تھی ۔
وقت وہ بھی تھا جو پہلے تھا اور وقت یہ بھی تھا جو اب تھا لیکن تینوں بندوں نے امید کا دامن نہ چھوڑتے ہوے نا شکری نہیں کی ہمیں بھی یہ الفاظ کبھی نہیں کہنے چاہیں کہ بارش ہی نہیں ہوئی ۔یہ کیا چند کڑیاں ۔چند بوندیں ۔۔۔۔ہمیں تو اپنے رب سے ایسے مانگنا چاہیے کہ اے ہمارے پروردگار یہ بارش جو برسی اس چند کڑیاں کیا ایک بوند کے بھی لائق نہیں ہم لیکن تو ہمارے اعمال کی طرف سے نگاہ اپنی رحمت کی طرف پھیر کے ہمیں عطا فرما۔آمین

شیئر کریں