جمعہ کے روز متعدد صحیح احادیث میں دعا کی قبولیت کے وقت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔اس وقت اگر کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔تاہم اس گھڑی کے بارے میں مختلف آراء میں اور دو مشہور آراء میں اور ان دونوں میں مروجہ رائے یہ ہے کہ یہ گھڑی عصر اور مغرب کے درمیان ہے اور بعض نے کہا یہ گھڑی غروب آفتاب سے تھوڑی پہلے کی ہے۔لہذا بہت سلف صالین جمعہ کے دن عصر سے مغرب تک دعاوں میں

مشغول رہتے تھے۔اور ان میں سے کچھ مغرب سے عین قبل دعاء کا اہتمام کرتے تھے نہیں میں نے اکثر بیانات کا حوالہ دیا ہے اور انہیں صحیح پایا ہے۔لہذا نما زعصر سے مغرب تک یا مغرب سے کچھ دیر قبل ہی ادا کی جائے۔تاہم ہر شخص کو چاہئے کہ انفرادی طور پر نمازوں کا اہتمام کرے،اجتماعی دعائیں بالکل نہیں۔چونکہ اس موقع پ راجتماعی نماز ثابت نہیں اور یہ چیز اگلی بدعت ہو گی لہذا مبارک یا السلام علیک کے نام س تلاوت کرنے سے گزیز کرنا چاہئے۔اور آپ کو یہ فرض بدھ کے روز ااورنماز

 

 

عصر سے پہلے مغرب کی نماز کے درمیاں ادا کرنا چاہئے۔جمعرات کو کم سے کم تعداد سات ہے اور اس وقت آپ کو بغیر وضو کے چلنا پڑتا ہے یا سلام پڑھنا پڑتا ہے اور جمعرات کے عصر کی نماز کے بعد۔نماز کے مقام پر بیٹھ کر کسی سے بات کئے بغیر اپنی نشست سے اٹھ کر تنہائی کا انتخاب کرنے کی کوشش کریں۔کیا آپ کو قرآن مجید

 

کی آخری آیت کا سورۃ عصر 41مرتبہ اور درود شریف اس کے شروع اور آخر میں تین بار پڑھنا ہے؟اس کے بعد آپ کو نماز مغرب تک چلتے ہوئے استغفار پڑھنا ہے۔پھر اپنے ہاتھوں کو بلند کرنا ہوگا اور اپنی ضروریات کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ہوگی۔

شیئر کریں