بیوی کا دل انتہائی نازک ہے۔اپنی بیوی سے جتنا ہو سکے نرمی برتو۔سنت نبویؐ سے ثابت ہوا کہ بیوی کے ساتھ نرمی سے پیش آو چاہے خود کو

 

بیوی سے ہمیشہ دھیمے اور نرم لہجے میں بات کرنی چاہیے کہ عورت کا دل نازک ہوتا ہے عورت

 

 

مرد کی دسترس میں ہوتی ہے مرد اس کا نگہبان ہوتا ہے مرد یہ ہی سوچ لے کہ جو اللہ کی امانت ہواس کاخیال رکھے۔ بیوی اللہ کی امانت ہے کہ اللہ کےکلمے کی وجہ سے وہ مرد پر حلال ہوئی ہے۔ اپنی بیوی کو کبھی بھی دکھ نہ دیں ، کیونکہ بیویوں کی دنیا بہت چھوٹی ہوتی ہے، اپنے شوہر سے شروع ہوتی ہے ۔ اور شو ہر پر ختم ہوتی ہے۔

شو ہر کو چاہیے بیوی کی تعریف سے زیادہ اس کا احساس کرے اور ایک بیوی کے لیے یہ احساس کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا کہ کوئی میری فکر کرنے والا ہے۔ مرد کو اپنے سامنے اونچا بولنے والی عورت اچھی نہیں لگتی۔ تو کیا عورت کو اپنے سامنے اونچا بولنے والا مرد اچھا لگتا ہے؟ نہیں ۔۔ عورت کو بھی وہ مرد زہر لگتا ہے جو اس پر چیخے، چلائے ، اس پر ہاتھ اٹھائے ، اسے دوسروں کے سامنے بے عزت کرے۔ ہرمیاں بیوی پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے

کہ جب کچھ لوگ ان کے رشتے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اس مشکل وقت میں نکل گیا وہ سکھی اورجو لوگوں کی باتوں میں آگیا اس کا مقدر نہ ختم ہونے والا دکھ ہے۔ بیوی کی خوبصورتی کی تعریف کریں اس کا حسن بڑھ جائے گا۔ اس کے کھانوں کی تعریف کریں لذت بڑھ جائے گی۔ عورت کی نفسیات ہی ایسی ہے کہ یہ چند محبت بھرے بولوں کے لیے اپنی جانثار کردیتی ہے۔ ایک مرد ہی کسی کو موقع دیتا ہے کہ و اس کی بیوی کی عزت کریں۔ جب وہ سب کو بتا دیتا ہے

کہ یہ میری بیوی ہے اور میں اس پر کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کروں گا، اور میری بیوی ہونے کے ناطے سب کا فرض ہے کہ اس کی عزت کی جائے ۔ تو کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ اس کی بیوی کی بے عزتی کرسکے مرد خود عزت کرے گا بیوی کی تو سب کریں گے ۔ بیو ی کی آنکھ میں کبھی آنسو نہ آنے دیں ، کیونکہ بیوی روتی ہے تو شوہر کی جیب سے برکت اڑ جاتی ہے۔ ایک ایک آنسو مہنگا پڑتا ہے اور پھر شوہر بھی رونے والا ہوجاتا ہے۔ بیوی شوہر کے لیے ایک آزمائش ہے

اور آزمائش کو جتنا وہ سمجھے گا اس کے قریب رہے گا وہ اتنی آسان ہوگی اورجتنا اس سے دور ہوگا الجھے گا تو وہ اتنی مشکل ہوگی۔ میاں بیوی کا رشتہ تب تک ایک کامیاب اور مثالی رشتہ نہیں بن سکتا ، جب تک “میں “ا ور “تم ” جیسے الفاظ کا استعمال شدت سے ہو۔

اس کی بجائے “ہم”استعمال ہو۔ جو بھی مسائل ہیں ہمارے مسائل ہیں ہمیں مل کرحل کرناچاہیے جو بھی خوشیاں ہیں وہ ہماری خوشیاں ہیں۔ بیوی سے آہستہ اور نرم لہجے میں بات کریں بیوی کا دل بہت نازک ہوتا ہے ۔ یہ سنت نبوی  ہے کہ بیوی کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ(چاہے ) خود کو کمزور ظاہر کرنا پڑے ، بجائے اس کے کہ بیوی پر ظلم اور سختی کرکے خود کو دلیرظاہر کرے۔

شیئر کریں